مجید امجد کی کس نظم میں یہ شعر ہے؟ "اجلی اجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں پھیلتی بھیڑ کے اوندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں"
- کنواں
- منٹو
- سپاہی
- ان میں سے کوئی نہیں
Explanation
یہ اشعار مجید امجد کی نظم "منٹو" سے ہیں۔
ان اشعار میں شاعر نے شہری زندگی، ہجوم اور معاشرتی بے حسی کی کیفیت کو بیان کیا ہے۔
شعر کے اہم الفاظ: "اجلی اجلی سڑکوں"، "گرد بھری حیرانی" اور "بھیڑ کی طغیانی" شہری معاشرے کی بے چینی اور انتشار کو ظاہر کرتے ہیں۔
اجلی اجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں
پھیلتی بھیڑ کے اوندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں۔
Last verified on 05-10-2026
Related MCQs
- مرزا غالب
- اکبر الہ آبادی
- علامہ اقبال
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- ولی دکنی
- محمد قلی قطب شاہ
- میر تقی میر
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- مرزا غالب
- ڈپٹی نذیر احمد
- کرشن چندر
- پریم چند
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- ایسی بلندی ایسی پستی
- شبنم
- آگ
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- خدیجہ مستور
- پریم چند
- قراۃالعین حیدر
- عصمت چغتائی